11 ستمبر 2026 - 17:54
قیس الخزعلی: عراق کے استحکام کے لیے ہتھیار ریاست کے پاس ہونا ضروری ہیں

عراق کی عصائب اہل الحق تحریک کے سیکرٹری جنرل شیخ قیس الخزعلی نے کہا ہے کہ ملک کے استحکام کے لیے ہتھیار ریاستی اداروں کے پاس ہونا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ سیاسی رہنما اس عمل کو آگے بڑھانے کی سب سے بڑی ذمہ داری رکھتے ہیں اور رابطہ فریم ورک کی تمام جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ ہتھیاروں کو ریاستی اختیار میں لایا جائے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عصائب اہل الحق کے سیکرٹری جنرل شیخ قیس الخزعلی نے العراقیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جاری جنگ کے نظریاتی اور تزویراتی پہلو ہیں اور اس کا مقصد خطے کا نقشہ دوبارہ ترتیب دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے حوالے سے عراق کا مؤقف اس ملک کے مرجعیت، حکومت اور عوام کے مؤقف میں واضح طور پر سامنے آتا ہے۔

قیس الخزعلی نے مزید کہا کہ بعض ممالک عراق میں شیعہ اقتدار کے خاتمے کے منصوبے پر بھی کام کرتے رہے ہیں۔

ریاستی اداروں کے پاس ہتھیار ضروری ہیں

عصائب اہل الحق کے سیکرٹری جنرل نے ریاست کے ہاتھ میں ہتھیاروں کو محدود کرنے کے معاملے پر کہا کہ ہتھیاروں کو ریاستی اختیار میں لانا ایک جائز اور درست مقصد ہے اور ریاستی اداروں کا استحکام اسی وقت ممکن ہے جب ہتھیار سکیورٹی اداروں کے پاس ہوں۔

انہوں نے کہا کہ شیعہ سیاسی رہنما دوسروں کی نسبت اس عمل کو آگے بڑھانے کی زیادہ ذمہ داری رکھتے ہیں اور رابطہ فریم ورک کی تمام جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ ہتھیاروں کو ریاستی اختیار میں لانے کے منصوبے کو آگے بڑھایا جائے۔

قیس الخزعلی نے کہا کہ ہتھیار ریاست کے حوالے کرنے کے حوالے سے ہمارے مؤقف میں کوئی تضاد نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک قدم آگے بڑھائیں اور اپنے اختیار کے ایک حصے کو ریاست کے حوالے کریں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ریاستی اختیار میں ہتھیاروں کا مطلب یہ ہے کہ اسلحہ اور مسلح افواج ریاستی ڈھانچے کا حصہ ہوں۔ جب مسلح افواج ریاستی ڈھانچے میں شامل ہو جائیں گی تو ہم ان کے ساتھ اپنے سیاسی اور جماعتی روابط ختم کر دیں گے۔

عصائب اہل الحق کے سربراہ نے زور دیا کہ ہتھیاروں کو ریاستی اختیار میں لانا ایک قومی مفاد ہے جس سے پورے ملک کو فوائد حاصل ہوں گے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ماضی میں ریاستی اداروں سے باہر ہتھیار رکھنے کی وجوہات بھی موجود رہی ہیں، جن میں عراق پر قبضہ اور داعش کی موجودگی سے پیدا ہونے والے حالات شامل ہیں۔

قیس الخزعلی نے آخر میں کہا کہ 30 ستمبر عراق کے استحکام کے مستقبل کا تعین کرنے کے حوالے سے ایک فیصلہ کن مرحلہ ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha